بنگلورو، 14/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کو تعلیم کے میدان میں غالباً آگے بڑھنے سے روکنے کے مقصد سے حجاب پر پابندی کے حامی وزیربی سی ناگیش کو اسمبلی انتخابات میں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ایک ایسا چہرہ تھا جو ہر وقت سرخیوں کی زینت بنا رہتا تھا، ریاست کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش۔حجاب تنازعے سے لے کرا سکولوں کے نصاب میں ’اپنے نظریات‘ شامل کرنے کے الزام تک، نہ صرف ریاست میں ہر مذہبی تنازعے کا محور رہے ہیں، بلکہ اپوزیشن کی تمام تر تنقید کا ہدف بھی رہے ہیں۔
سینچر کو بی سی ناگیش ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے، لیکن اس بار ان کے تعلق سے خبر پڑھ کر انہیں خوب ہزیمت اُٹھانی پڑی ہوگی کیونکہ اس بار خبر ان کی ریاستی اسمبلی کی سیٹ کے انتخابات میں شکست کی چھپی تھی۔ انہیں ضلع ٹمکور سے اپنے مخالف کانگریسی امیدوار کے ہاتھوں 17 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست کھانی پڑی ۔
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش کے قریبی ساتھی مانے جانے والے، 64 سالہ سیاست دان نے زندگی کے اوائل میں ہی سخت گیر مذہبی نظریات کو قبول کرتے ہوئے اے بی وی پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے آر ایس ایس میں اور ٹمکور ضلع کے بی جے پی سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ پہلی بار 2008 میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2013 میں انہیں شکست ہوئی اور 2018 میں 25 ہزار سے زائد ووٹوں سے وہ دوبارہ منتخب ہوئے۔
حجاب تنازع کے دوران بی سی ناگیش کو کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی لگا کر مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے ’محروم‘ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ معاملہ ابھی بھی عدالت میں ہے تاہم سابق وزیر تعلیم ہمیشہ سے ہی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حامی رہے ہیں۔
ناگیش اور ان کی انتظامیہ کو آزادی پسند بھگت سنگھ اور سماجی مصلح نارائن گرو پر مشتمل اسباق کو اسکولوں کے نصاب سے نکالنے کے لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا - لیکن تنقید کے بعد بھگت سنگھ اور نارائن گرو پر مشتمل اسباق کو دوبارہ شامل کر لیا گیا ۔